ایک اٹوک بدھن
مالکن کی ڈائری - چیپٹر 3 : ایک اٹوک بدھن ھیلو دوستو جیسا کے آپ جانتے ہیں یہ میری کہانی کا چیپٹر 3 ھے پچلے واقعات میں آپ نے بہت کچھ پڑھا اور جانا ھے آج یہ تیسرا چیپٹر اس سے بھی زیادہ سنسنی خیز ھے تو بینا ٹائم ویسٹ کیئے میں اپنی کہانی وھیں سے شروع کرتی ھوں جہاں سے چھوٹی تھی اب تیسرا چیپٹر حاضر ھے اس رات بینا نے مجھے بہت قریب کر لیا۔ اس کی سانسیں تیز تھیں، میری بھی۔ بینا نے میرے کندھے سے نائٹی کا کنارہ ہٹایا۔ اس کی انگلیاں میرے بازو پر چلیں تو میرے جسم میں آگ سی لگ گئی۔ "آپی، سچ میں بہت سکون ملتا ہے نا؟" بینا نے سرگوشی کی۔ میں نے بس سر ہلا دیا۔ لفظ نہیں نکل رہے تھے۔ بینا مجھ پر جھک گئی۔ اس کے ہونٹوں کی نرمی نے میرے دل کی دھڑکن تیز کر دی۔ اس رات بینا نے مجھے سکھایا کہ اپنائیت کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ اس کے لمس سے سالوں کی پیاس بجھنے لگی۔ ہم دونوں ایک دوسرے میں گم ہو گئے۔ وقت کا پتہ ہی نہ چلا۔ جب ہوش آیا تو صبح کی روشنی کھڑکی سے آ رہی تھی۔ بیٹے نے دروازہ کھٹکھٹایا، "امی ناشتہ؟" میں جلدی سے کپڑے سنبھال کر اٹھی۔ بینا مسکرا کر چادر اوڑھ ک...