نمایاں پوسٹ

ڈاکٹر صفرا کی ڈائری: کا تیسرا صفہ

  ڈاکٹر صفرا کی ڈائری: کا تیسرا صفہ




               ھیلو دوستو 

    

      میں ھو آپ کی ڈاکٹر صفرا



میں معاملے کی سنگینی کو سمجھتی ھوئی، تسلی بخش لیکن پُرعزم لہجے میں بولی دیکھیئے، روئیں مت اور خودکشی جیسی باتیں ذہن سے نکال دیں۔ آپ کی مردانہ کمزوری کا علاج بالکل ممکن ھے، میں حکمت کے خاص نسخوں اور انگریزی طریقہ علاج سے آپ کو بالکل ٹھیک کر دوں گی۔ لیکن آپ کو ذہنی طور پر مضبوط ہونا پڑے گا اور جیسا میں کہوں، ویسا کرنا ہوگا۔



وہ آنسو پونچھتے ہوئے، امید بھری نظروں سے مجھے دیکھتے ھوئے کہا جی ڈاکٹر صاحبہ، آپ جیسا کہیں گی میں ویسا ہی کروں گا۔ بس مجھے اس عذاب سے نکال دیں۔ میں بولی بعض، اوقات علاج دواؤں میں نہیں، بلکہ دو جسموں کے مابین پیدا ہونے والے لمس کے سکون میں چھپا ہوتا ہے مریض نے حیرت اور سحر زدہ نظروں سے میری طرف دیکھا، میں اپنی کرسی سے اٹھ 


کر آہستہ آہستہ مریض کے قریب آئی، اور میں ان کے بالکل قریب کھڑی ھو گئی۔ وہ احساس میرے انگ انگ سے جھلک رہا تھا، اور میرا وجود کسی پگھلتے ہوئے موم کی طرح تپش کا احساس دے رہا تھا۔ میرے اندر کا معالج پسِ پشت چلا گیا اور ایک عورت کی جذباتی تسکین جاگ اٹھے۔ کمرے کی ہوا میں ایک عجیب سی تپش اور گہرا سکوت اتر آیا  میرا 



لہجہ اب معالج کا نہیں بلکہ ایک ہمدرد اور سحر انگیز عورت کا تھا۔ میں نے کہا زندگی سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے اسے معائنے کی میز پر لیٹنے کو کہا۔ ایک ڈاکٹر کے طور پر میں نے دستانے پہنے اور اس کے جسم کے اس حساس اور پوشیدہ حصے کا معائنہ شروع کیا۔ وہ درد اور شرمندگی سے آنکھیں بند کیے ھوئے تھا، لیکن میں اس کے نازک حصہ کو 




دیکھتے ھی، میرے اندر ایک الگ ھی طوفان اٹھ رہا تھا۔ میری انگلیاں اس کی مردانگی کو چھو رہی تھیں، اور میرا دل اس کے کسرتی جسم کو دیکھ کر پیشے کی تمام حدیں توڑنے پر آمادہ تھا۔ وہ علاج کی امید لیئے لیٹا تھا، اور میں اس کے جسم کے لمس سے اپنی ہوس کی پیاس بجھانے کے خواب بُن رہی تھی اس لمحے پیشے کی تمام حدود مٹ چکیں تھیں،



 میرے ہونٹوں نے اس کی مردانگی کے لمس کو محسوس کیا۔ وہ ایک ایسی دیوانگی کا مطلع تھا جہاں زبان اور ہونٹوں کے الفاظ ادا کرنے کے بجائے اس کے جسم کی تپش کو اپنے اندر سمیٹ رہے تھے۔ اس کے منہ سے نکلنے والی مدہم سسکاری بتا رہی تھی کہ یہ لمس کس قدر گہرا اور جاندار تھا میں نے جب مریض کی آنکھوں میں بے بسی اور مایوسی کے آنسو دیکھے،




میں اس کے چہرے کے قریب جھکی جہاں میری سانسوں کی گرمی اس کے گالوں کو چھو رہی تھی بس من میں ایک ھی خیال تھا کہ میں اپنے ادھورے پن کو بھول جاؤ۔ کیونکہ اس لمحے میں یہاں نہ کوئی مریض ہے اور نہ کوئی معالج اور تمام حدود مٹ چکیں تھیں۔ کمرے کی مدہم روشنی میں جذبات کا طوفان اپنے عروج پر تھا میرے وجود کا نسوانی ابھار


دوستو! یہ میری زندگی کی پراسرار ڈائری کا پہلا صفحہ تھا، جہاں ایک معالج اور عورت کے جذبات کا انوکھا ٹکراؤ ہوا۔ آپ کو میری یادوں کا یہ پہلا حصہ کیسا لگا؟ مجھے نیچے کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں۔


میری زندگی کے اگلے پُرکشش اور سنسنی خیز واقعے کے لیے چوتھا صفحہ پیش خدمت ھے 






تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

میں ہوں آپ کی سمرین سمی

دل کی دہلیز پار