میرے آنسوؤں کی ڈائری
![]() |
میرے آنسوؤں کی ڈائری
میرا نام سبیہ ہے۔
میں 19 سال کی تھی جب میرا نکاح ہوا۔ اماں نے مہندی لگاتے ہوئے کہا تھا "بیٹا، سسرال جنت ہے"۔ میں نے یقین کر لیا تھا۔
شادی کے 40 دن بعد جنت دوزخ بن گئی۔
اس نے پہلے میرے خواب توڑے۔ پھر میری عزت۔ پھر میری ہنسی۔ سب کچھ... جبر سے۔
"منہ بند رکھو سبیہ۔ اگر کسی کو بتایا تو..."
اس کے بعد والا جملہ میں آج تک پورا نہیں سن پائی۔ ڈر لگتا ہے۔
وہ مجھے ایک ایسے اندھیرے میں دھکیل رہا تھا جہاں روشنی کا نام و نشان نہیں تھا۔ میں گھٹنوں کے بل گر جاتی، اس کے پاؤں پکڑ لیتی "خدا کے لیے نہیں"۔ وہ ہنستا تھا۔ کہتا "بیوی ہو میری، جو کہوں گا ماننا پڑے گا"۔
کون سمجھائے اسے کہ بیوی قیدی نہیں ہوتی؟
پہلی رات جب اس نے زبردستی کی، میں اندر ہی اندر مر گئی۔ روح نکل گئی جسم سے۔ جسم رہ گیا، بس ایک خول۔ کھوکھلا، بے جان۔
صبح اٹھ کر میں نے منہ دھویا، کاجل لگایا، ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائی۔ ساس نے کہا "کیسی دلہن ہے، اتنی چپ"۔ میں نے کہا "شرماتی ہوں اماں"۔
اندر طوفان تھا، باہر صحرا۔
مہینے گزرتے گئے۔ اس کا جبر بڑھتا گیا۔ وہ مجھے ان لوگوں کے سامنے لے جانے لگا... جن کے نام لینے سے بھی روح کانپتی ہے۔ میں چیختی، وہ منہ دبا دیتا۔ میں روتی، وہ دھمکی دیتا "ماں باپ کی عزت مٹی میں ملا دوں گا"۔
میں ٹوٹتی گئی۔ ہر دن ایک نیا ٹکڑا گرتا۔
رات کو جب سب سو جاتے، میں واش روم میں جا کر روتی تھی۔ آواز نہ نکلے، اس لیے تولیہ منہ میں دبا لیتی۔ آنسو ختم ہو جاتے تو خون کے آنسو روتی۔
آئینہ دیکھتی تو ایک اجنبی لڑکی نظر آتی۔ بال بکھرے، آنکھیں اندر دھنسیں، ہونٹ کانپتے۔ یہ میں نہیں تھی۔ یہ وہ سبیہ تھی جسے جبراً مار دیا گیا تھا۔
اماں فون کرتیں "بیٹا کیسی ہو؟"
میں ہنس کر کہتی "آپ کی دعاؤں سے بہت اچھی"۔
فون بند کر کے میں فرش پر گر جاتی اور دیر تک سسکتی رہتی۔
مجھے لگتا تھا میں اکیلی ہوں۔ دنیا میں سب سے بدقسمت۔
پھر ایک دن محلے کی زینب آنٹی نے میری کلائی پکڑ لی۔ میں نے بازو چھپانے کی کوش کی، پر نیل چھپ نہ سکے۔
انہوں نے کچھ نہیں پوچھا۔ بس سینے سے لگا لیا۔ اور کہا "بیٹا، ظلم سہنے والی عورت گناہگار نہیں ہوتی۔ گناہگار وہ ہے جو ظلم کرے"۔
اس ایک جملے نے میری 2 سال کی قید توڑ دی۔
زینب آنٹی مجھے ایک خاتون وکیل کے پاس لے گئیں۔ وکیل میڈم نے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا "سبیہ، تمہارے ساتھ جو ہوا وہ تمہارا قصور نہیں۔ قانون تمہارے ساتھ ہے"۔
میں ڈر گئی۔ "اگر اسے پتہ چل گیا تو؟ وہ مجھے مار دے گا"۔
میڈم نے میرا ہاتھ پکڑا "اب تم اکیلی نہیں ہو بیٹا"۔
کیس درج ہوا۔ پہلی بار میں نے تھانے میں جا کر بیان دیا۔ ہر لفظ بولتے ہوئے میرا جسم کانپ رہا تھا۔ پر میں بولی۔ 2 سال بعد میری آواز نکلی۔
لوگوں نے باتیں بنائیں۔ "سبیہ بدنام ہو گئی"۔ "شوہر کے خلاف کیس؟"۔
میں نے پلٹ کر کہا "بدنام وہ ہوا ہے جس نے جبر کیا۔ میں تو بس جی رہی ہوں"۔
آج 3 سال ہو گئے۔ کیس چل رہا ہے۔ میں نے ایک چھوٹا سا کمرہ کرائے پر لیا ہے۔ سلائی کرتی ہوں۔ 200-300 روپے کما لیتی ہوں۔
رات کو اب بھی ڈر لگتا ہے۔ کبھی کبھی نیند میں چیخ پڑتی ہوں۔ پر اب میں اٹھ کر خود کو تسلی دیتی ہوں "سبیہ، تم آزاد ہو"۔
اس نے میرا جسم توڑا تھا، میری روح نہیں توڑ سکا۔
آج میں جب بھی کوئی نئی لڑکی دیکھتی ہوں جس کی آنکھوں میں وہی ڈر ہوتا ہے جو کبھی میری آنکھوں میں تھا... میں اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہوں۔
اور کہتی ہوں "بہن، چپ نہ رہو۔ بول دو۔ تمہارا قصور نہیں ہے"۔
میں سبیہ ہوں۔
جسے جبراً غلط راہ پر دھکیلا گیا تھا۔
پر میں نے وہ راہ چھوڑ دی۔
اب میں اپنی راہ خود بناتی ہوں۔
کانٹے ہیں، پتھر ہیں، زخم ہیں۔ پر یہ میری راہ ہے۔ میری مرضی کی۔
میں گرتی ہوں، اٹھتی ہوں، پھر چلتی ہوں۔
کیونکہ میں مر نہیں گئی۔
میں سبیہ ہوں۔ زندہ ہوں۔







تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں