اشاعتیں

نمایاں پوسٹ

ڈاکٹر صفرا کی ڈائری: کا تیسرا صفہ

تصویر
   ڈاکٹر صفرا کی ڈائری: کا تیسرا صفہ                ھیلو دوستو             میں ھو آپ کی ڈاکٹر صفرا میں معاملے کی سنگینی کو سمجھتی ھوئی، تسلی بخش لیکن پُرعزم لہجے میں بولی دیکھیئے، روئیں مت اور خودکشی جیسی باتیں ذہن سے نکال دیں۔ آپ کی مردانہ کمزوری کا علاج بالکل ممکن ھے، میں حکمت کے خاص نسخوں اور انگریزی طریقہ علاج سے آپ کو بالکل ٹھیک کر دوں گی۔ لیکن آپ کو ذہنی طور پر مضبوط ہونا پڑے گا اور جیسا میں کہوں، ویسا کرنا ہوگا۔ وہ آنسو پونچھتے ہوئے، امید بھری نظروں سے مجھے دیکھتے ھوئے کہا جی ڈاکٹر صاحبہ، آپ جیسا کہیں گی میں ویسا ہی کروں گا۔ بس مجھے اس عذاب سے نکال دیں۔ میں بولی بعض، اوقات علاج دواؤں میں نہیں، بلکہ دو جسموں کے مابین پیدا ہونے والے لمس کے سکون میں چھپا ہوتا ہے مریض نے حیرت اور سحر زدہ نظروں سے میری طرف دیکھا، میں اپنی کرسی سے اٹھ  کر آہستہ آہستہ مریض کے قریب آئی، اور میں ان کے بالکل قریب کھڑی ھو گئی۔ وہ احساس میرے انگ انگ سے جھلک رہا تھا، اور میرا وجود کسی پگھلتے ہوئے موم کی طرح تپش کا احساس ...

راز کا کھلنا اور سنسنی خیز معائنہ

تصویر
📖 ڈاکٹر صفرا کی ڈائری: صفحہ 5 (راز کا کھلنا اور سنسنی خیز معائنہ)                   ھیلو دوستو               میں ہوں آپ کی ڈاکٹر صفرا۔ میں اپنے شعبے کی ایک ماہر معالج ہوں اور میرا ہر علاج سو فیصد گارنٹی کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن اس پیشہ ورانہ کامیابی کے ساتھ ساتھ، میرے اندر ایک تپتی ہوئی ندی بھی بہتی ھے جو زندگی کے ہر رنگ کو پوری شدت اور ہوس کے ساتھ محسوس کرنا چاہتی ھے۔ جب وہ نوجوان ایک ہفتے بعد دوبارہ آیا، تو اس بار کہانی میں ایک نیا اور خطرناک موڑ  آچکا تھا۔ ایک ہفتہ گزر گیا۔ ان سات دنوں میں، میں اکثر کلینک کے اس کمرے میں بیٹھ کر اسی نوجوان کے بارے میں سوچتی رہی۔ کیا میری ادویات اور اس دن کے اس جاندار لمس نے اس کے اندر کا مرد جگایا ہوگا؟ کیا اس کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئی ہوگی؟ انہی سوالات کے جوابات کا مجھے انتظار تھا۔ ٹھیک ساتویں دن، شام کے وقت وہ شام کے وقت کلینک آیا، لیکن اس بار وہ اکیلا نہیں تھا۔ کلینک کے با...

دل کی دہلیز پار

تصویر
مالکن  کی  ڈائری -  چیپٹر   3 :  دل کی دہلیز پار اس رات بینا نے مجھے بہت قریب کر لیا۔ اس کی سانسیں تیز تھیں، میری بھی۔ بینا نے میرے کندھے سے نائٹی کا کنارہ ہٹایا۔ اس کی انگلیاں میرے بازو پر چلیں تو میرے جسم میں آگ سی لگ گئی۔ "آپی، سچ میں بہت سکون ملتا ہے نا؟" بینا نے سرگوشی کی۔ میں نے بس سر ہلا دیا۔ لفظ نہیں نکل رہے تھے۔ بینا مجھ پر جھک گئی۔ اس کے ہونٹوں کی نرمی نے میرے دل کی دھڑکن تیز کر دی۔ اس رات بینا نے مجھے سکھایا کہ اپنائیت کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ اس کے لمس سے سالوں کی پیاس بجھنے لگی۔ ہم دونوں ایک دوسرے میں گم ہو گئے۔ وقت کا پتہ ہی نہ چلا۔ جب ہوش آیا تو صبح کی روشنی کھڑکی سے آ رہی تھی۔ بیٹے نے دروازہ کھٹکھٹایا، "امی ناشتہ؟" میں جلدی سے کپڑے سنبھال کر اٹھی۔ بینا مسکرا کر چادر اوڑھ کر لیٹ گئی۔ ناشتہ بناتے ہوئے میرا دل ابھی تک دھڑک رہا تھا۔ بیٹا ناشتہ کر کے چلا گیا۔ بینا نے پیچھے سے آ کر مجھے گلے لگا لیا، "آپی، آج بھی رات کا انتظار رہے گا؟" ...

میرے آنسوؤں کی ڈائری

تصویر
میرے آنسوؤں کی ڈائری میرا نام سبیہ ہے۔  میں 19 سال کی تھی جب میرا نکاح ہوا۔ اماں نے مہندی لگاتے ہوئے کہا تھا "بیٹا، سسرال جنت ہے"۔ میں نے یقین کر لیا تھا۔

میں ہوں آپ کی سمرین سمی

تصویر
میری مما لیسبن ھے ھیلو دوستو میرا نام سمرین ھے  ۔ اور نک نام سمی ھے۔ ھم تین بہنیں ہیں۔ میں بہنوں سے بڑی ھوں۔ اور مجھ سے بڑا میرا بھائی ھے۔ اور ھم سب سے چھوٹا دوسرا بھائی ھے۔ پاپا دوبئی میں جوب کرتا ھے۔ میری ممی لیسبن ھے۔ یعنی ھم جنس پرست۔ ممی مجھے اپنے ساتھ سلاتی تھی۔ اور میرے ساتھ سیکس کرتی تھی۔ ممی اور میں ہر رات کو سیکس کرتی چوتوں کا رس نکال کر سو جاتی تھیں