نمایاں پوسٹ

راز کا کھلنا اور سنسنی خیز معائنہ

📖 ڈاکٹر صفرا کی ڈائری: صفحہ 5


(راز کا کھلنا اور سنسنی خیز معائنہ)


                  ھیلو دوستو

      

       میں ہوں آپ کی ڈاکٹر صفرا۔


میں اپنے شعبے کی ایک ماہر معالج ہوں اور میرا ہر علاج سو فیصد گارنٹی کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن اس پیشہ ورانہ کامیابی کے ساتھ ساتھ، میرے اندر ایک تپتی ہوئی ندی بھی بہتی ھے جو زندگی کے ہر رنگ کو پوری شدت اور ہوس کے ساتھ محسوس کرنا چاہتی ھے۔ جب وہ نوجوان ایک ہفتے بعد دوبارہ آیا، تو اس بار کہانی میں ایک نیا اور خطرناک موڑ  آچکا تھا۔




ایک ہفتہ گزر گیا۔ ان سات دنوں میں، میں اکثر کلینک کے اس کمرے میں بیٹھ کر اسی نوجوان کے بارے میں سوچتی رہی۔ کیا میری ادویات اور اس دن کے اس جاندار لمس نے اس کے اندر کا مرد جگایا ہوگا؟ کیا اس کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئی ہوگی؟ انہی سوالات کے جوابات کا مجھے انتظار تھا۔


ٹھیک ساتویں دن، شام کے وقت وہ شام کے وقت کلینک آیا، لیکن اس بار وہ اکیلا نہیں تھا۔ کلینک کے باہر میرے اسسٹنٹ نے اسے دیکھ لیا تھا اور اندر آ کر مجھے مطلع کیا۔



اسسٹنٹ نے دھیرے سے کہا: "ڈاکٹر صاحبہ! وہی مریض دوبارہ آیا ہے، لیکن وہ بہت گھبرایا ہوا ھے اور بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہا ہے، جیسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہو۔"


میں نے اسسٹنٹ کو باہر بھیجا اور مریض کو اندر بلایا۔ وہ جیسے ھی کمرے میں داخل ہوا، اس نے فوراً دروازے کی کنڈی لگا دی۔ اس کا چہرہ لال تھا اور سانسیں پھولی ھوئی تھیں۔


میں نے حیرت سے پوچھا: "خیریت تو ھے؟ تم اس طرح کیوں چھپ کر آئے ھو اور کسی کو تمہارے یہاں آنے کا پتہ چلا ھے کیا؟"



مریض نے ہانپتے ہوئے جواب دیا: "ڈاکٹر صاحبہ! میری بیوی کے یار کو شک ھو گیا ہے کہ میں کسی لیڈی ڈاکٹر کے پاس آ رہا ھوں۔ مجھے لگتا ہے کلینک کے باہر کسی نے مجھے اندر آتے دیکھ لیا ھے۔ اگر اسے پتہ چل گیا تو میری زندگی برباد ہو جائے گی! لیکن میں آپ کے بغیر رہ نہیں سکا، آپ کی ادویات سے زیادہ مجھے آپ کے لمس کی ضرورت تھی..."



باہر پکڑے جانے کا خوف تھا اور اندر جذبات کی تپش۔ اس سسپنس نے کمرے کے ماحول کو اور بھی گرم کر دیا۔



میں نے میز پر ہاتھ ٹکاتے ھوئے، دھیمی مگر سحر انگیز آواز میں کہا: "دیکھو، اگر کوئی باہر موجود بھی ھے، تو اس وقت تم میرے کمرے میں محفوظ ہو۔ لیکن ایک ماہر ڈاکٹر ہونے کے ناطے، مجھے یہ دیکھنا ہوگا کہ ایک ہفتے میں یہ بہتری عارضی ہے یا مستقل۔ آئیے، معائنے کی میز پر تشریف لائیے۔"


وہ اٹھ کر معائنے کے لیے بستر پر لیٹ گیا۔ باہر کسی کے ھونے کا سسپنس اور اندر کی بے تابی نے اس کی مردانہ امنگ کو اور بھی ابھار دیا تھا۔ جب میرے ہاتھ اس کے جسم کو چھو رھے تھے، تو وہ شرم اور خوف کی حدود کو توڑ چکا تھا۔



کمرے کے پردے گرا دیے گئے اور باہر کے خطرے کو بھول کر معالج اور مریض کا رشتہ ایک بار پھر دو تپتے ہوئے وجودوں کے ملاپ میں بدل گیا۔ اس بار سب کچھ الگ تھا۔ اس کی مردانگی میں اب وہ پہلا جیسا ادھورا پن نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی پائیداری تھی جو طویل وقت تک قائم رھی۔



اس سنسنی خیز ماحول میں جسمانی ملاپ کا یہ سفر اس قدر طویل اور جاندار تھا کہ وقت جیسے ٹھہر گیا۔ اس کے وجود کی تپش نے میرے اندر کی پیاس کو بھی پوری طرح سیراب کر دیا۔



جب جذبات کا یہ طوفان تھما اور ہم دونوں پرسکون گوئے، تو میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ھوئے ایک فخریہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا:


"کمال ہے... تمہاری مردانگی کا دورانیہ (ٹائم) اب پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے! میرا علاج واقعی لاجواب رہا۔"


مریض نے میری طرف شکرگزاری سے دیکھتے ہوئے کہا: "ڈاکٹر صاحبہ! یہ سب آپ کے علاج کا معجزہ ہے۔ اب مجھے کسی کا خوف نہیں ہے۔"


میں نے مسکرا کر اسے مزید کچھ ادویات دیں اور کہا:



"اب آپ بالکل ٹھیک ہیں۔ جائیے، اور آج رات ہی سے اپنی بیوی کے ساتھ دوبارہ سے ایک نئی زندگی اور جسمانی ملاپ کا آغاز کیجیے۔ اب آپ کو کسی بھی چیز سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔"


وہ ایک نئے جوش اور اعتماد کے ساتھ کلینک کے پچھلے دروازے سے رخصت ہو گیا۔



دوستو! یہ تھا ڈاکٹر صفرا کے علاج کا وہ جادوئی اور سنسنی خیز طریقہ۔ میری ڈائری کا یہ دوسرا صفحہ آپ کو کیسا لگا؟ کیا باہر کھڑے شخص نے اسے دیکھ لیا؟


جب وہ اس رات گھر گیا، تو اس کی بیوی کا کیا ردعمل ہوا؟ مجھے نیچے کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں۔ اگلی سنسنی خیز داستان کے لیے صفحہ نمبر 3 کا انتظار کریں!



میری زندگی کے اگلے پُرکشش اور سنسنی خیز واقعے کے لیے چھٹے صفحے کا انتظار کریں!






تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

میں ہوں آپ کی سمرین سمی

دل کی دہلیز پار