دل کی دہلیز پار

  



مالکن کی ڈائری- چیپٹر 3:


 دل کی دہلیز پار


اس رات بینا نے مجھے بہت قریب کر لیا۔ اس کی سانسیں تیز تھیں، میری بھی۔


بینا نے میرے کندھے سے نائٹی کا کنارہ ہٹایا۔ اس کی انگلیاں میرے بازو پر چلیں تو میرے جسم میں آگ سی لگ گئی۔


"آپی، سچ میں بہت سکون ملتا ہے نا؟" بینا نے سرگوشی کی۔


میں نے بس سر ہلا دیا۔ لفظ نہیں نکل رہے تھے۔ بینا مجھ پر جھک گئی۔ اس کے ہونٹوں کی نرمی نے میرے دل کی دھڑکن تیز کر دی۔



اس رات بینا نے مجھے سکھایا کہ اپنائیت کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ اس کے لمس سے سالوں کی پیاس بجھنے لگی۔


ہم دونوں ایک دوسرے میں گم ہو گئے۔ وقت کا پتہ ہی نہ چلا۔ جب ہوش آیا تو صبح کی روشنی کھڑکی سے آ رہی تھی۔


بیٹے نے دروازہ کھٹکھٹایا، "امی ناشتہ؟"


میں جلدی سے کپڑے سنبھال کر اٹھی۔ بینا مسکرا کر چادر اوڑھ کر لیٹ گئی۔


ناشتہ بناتے ہوئے میرا دل ابھی تک دھڑک رہا تھا۔ بیٹا ناشتہ کر کے چلا گیا۔


بینا نے پیچھے سے آ کر مجھے گلے لگا لیا، "آپی، آج بھی رات کا انتظار رہے گا؟"


میں نے بس شرما کر سر جھکا دیا۔


ایسے ہی ایک مہینہ گزر گیا۔ راتیں ہماری ہو گئیں۔ دن بھر بینا کے خیال، رات بھر اس کی قربت۔


پھر ایک رات... ہم دونوں کمرے میں تھے۔ دروازہ نیم وا رہ گیا تھا۔


اچانک بیٹا سامنے آ گیا۔ ہم دونوں ساکت رہ گئیں۔


بیٹے نے کچھ نہیں کہا۔ بس نظریں چرا کر چلا گیا۔


اس دن کے بعد بینا اکثر بیٹے کی بات کرتی، "آپی، تیرا بیٹا بہت سمجھدار ہے... اور بہت... کیئرنگ بھی۔"


میں شرما جاتی۔ کچن میں کام کرتے ہوئے بیٹا آ جاتا تو ہم دونوں کی سانسیں رک جاتیں۔


ایک دن بینا نے دھیرے سے کہا، "آپی، تیرا بیٹا مجھے دیکھتا ہے... ایسے جیسے..."


میں نے بینا کا ہاتھ دبا دیا، "بینا، آگے جو ہوگا دیکھا جائے گا۔"


یہ سن کر بینا کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ اس نے میرا ہاتھ چوم لیا۔


👉 چیپٹر 4 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں:

---👇



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

میں ہوں آپ کی سمرین سمی